8 مارچ 2011 - 20:30

دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ مبارک کے بیٹے "جمال مبارک" اور وقت کے وزیر داخلہ "حبیب العادلی" شرم الشیخ کے بم دھماکوں میں ملوث ہیں جن میں مجموعی طور پر 88 مصری شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ویسے تو انقلاب سے تھوڑا ہی عرصہ قبل حسنی مبارک کو اپنی موت یا زوال کے قریب ہونے کی علامتیں نظر آئی تھیں اور وہ اپنے جانشین کی تقرری کا راستہ ہموار کررہے تھے اور اسی لئے انھوں نے وسیع سطح پر دھاندلی کروا کر پارلیمانی  انتخابات میں مصری پارلیمان کی تقریباً تمام نشستوں پر قبضہ جمایا تھا اورجمال مبارک اس شخصی حکمرانی کے شہزادے کے طور پر سامنے آئے تھے مگر خدا کو کچھ اور منظور تھا اور عوام نے اللہ پر توکل کرکے اسرائیل اور امریکہ کے اس کٹھ پتلی حکمران کو عرش اقتدار سے اٹھا کر فرش زمین پر پٹخ دیا اور اب روز بروز نئے راز افشا ہورہے ہیں اور نئی نئی باتیں سامنے آرہی ہیں اور شاید اس ظالم آمریت کے 32 سالہ رازوں کے افشاء پر بھی کئی برس کا عرصہ لگ جائے۔سردست مصری انقلابیوں نے مبارک دور کے خفیہ اداروں کی بعض عمارتوں پر قبضہ کیا ہے جن سے بعض عجیب قسم کی دستاویزات ہاتھ لگی ہیں۔ ان دستاویزات کی اہمیت اتنی ہے کہ اوباما نے ان میں موجود رازوں کے افشا کے خوف سے اپنے وزیر دفاع کو مصر کے دورے پر روانہ کیا لیکن بعض راز اب افشا ہوہی گئے ہیں۔دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ مبارک کے بیٹے "جمال مبارک" اور وقت کے وزیر داخلہ "حبیب العادلی" شرم الشیخ کے بم دھماکوں میں ملوث ہیں جن میں مجموعی طور پر 88 مصری شہری ہلاک ہوگئے تھے۔دستاویزات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ جمال مبارک کو اسرائیل کے ساتھ قدرتی گیس کے سودے سے حاصل ہونے والی آمدنی میں مصری تاجر "حسین سالم" کی نسبت کم حصہ ملا تھا اور جمال ان سے بدلہ لینا چاہتے تھے۔ اس دھماکے میں 88 افراد ـ جن میں اکثریت مصری شہریوں کی تھی ـ ہلاک ہوگئے تھے۔ انکشاف ہوا ہے کہ حسین سالم نے اسرائیل کو گیس کی فراہمی کے ڈھائی ارب ڈالر کے سودے میں جمال مبارک کا حصہ 10 فیصد سے ڈھائی فیصد تک گھٹا دیا تھا۔

.......

/110